meranpur sindh pakistan 200

میران پور گاؤں کی تاریخ صوبہ سندھ میں بلوچستان سے صرف 10 منٹ کے فاصلے پر

 صوبہ سندھ میں واقع گاؤں ميرانپور یا میران پور بھڑوڑ ضلع جیکب آباد کے بڑے گاؤں میں شمار ہوتا ہے.2001 کی مردم شماری کے دورانے یہاں میران پور کی آبادی 1500 نفوس پر مشتمل تھی. یہاں زیادہ تر پلھ کمیونٹی کی اکثریت ہے. میران پور کو جیکب آباد کی کنجی بھی کہا جاتا ہے. بنیادی سہولتیں یہاں دیگر دیہاتوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر دستیاب ہیں. بنیاد ی صحت کے مرکز، ہائی اسکول، پرائمری اسکول اور پوسٹ آفس کی موجودگی نے قریب و جوار کے چھوٹے موٹے گاؤں والوں کو بھی میران پور کی طرف متوجہ کر رکھا ہے.
یہ گاؤں 1932 سے قائم ہے. 1936 سے اسے زمانہ میران پور کے نام سے جانتا ہے یہاں زیادہ تر لوگ قریبی علاقوں سے آ کر آباد ہونا شروع ہوئے. گاؤں میں زیادہ تر آبادی مسلمانوں کی ہے یہ گاؤں بلوچستان اور سندھ کے سنگھم پر واقع ہونے کے باعث بھی اہمیت رکھتا ہے اور آپ میران پور بھڑوڑ سے صرف 10 منٹ میں بلوچستان پہنچ سکتے ہیں. بلوچستان کی مشہور زمانہ سیف الله مگسی کنال بھی یہاں سے گزرتی ہے. اس گاؤں کی قدیم تاریخی حیثیت ہے جو ساڑھے تین سو سال پر مشتمل ہے. گاؤں میں اب بھی ایسے مکانات ہیں جو 150 سال سے زیادہ پرانے ہیں. یہاں زیادہ تر چاول اور گندم کی فصلیں اگتی ہیں مگر زمین کیونکہ زرخیز ہے لہٰذا یہاں اچھی خاصی تعداد تعداد میں لوگ سبزیوں کی کاشت بھی کرتے ہیں. یہاں ہر مسلک اور مکتبہ فکر کے لوگ آباد ہیں اور سب پر امن طور پر رہتے ہیں.مساجد اور امام بارگاہیں قریب قریب واقع ہیں مگر فرقہ وارانہ کشیدگی کا تصور بھی یہاں کے باسی نہیں کر سکتے. علاقے میں بھرڑو قوم کی اکثریت ہے مگر چن،عمرانی،سومورو،بلیدی اور دیگر قومیں بھی یہاں کی رہائشی ہیں. گاؤں میں نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت بھی سماجھی کام کرتے ہیں. (بشارت حیدر بھرڑو)

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں